پی وی سندھو نے تاریخ رقم کی، جیتا کوریا اوپن کا خطاب

سیول:ہندوستان کےاسٹار کھلاڑی سندھو نے آٹھویں سیڈ جاپان کی نوجیمی اوکوہارا سے ورلڈ چمپئن شپ کے فائنل کی ہار کا بدلہ چکاتے ہوئے اتوار کو کوریا اوپن سپر سیریز بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا خطاب جیت کر تاریخ رقم کی۔اولمپک اور ورلڈ چمپئن شپ میں نقرئی تمغہ جیتنے والی سندھو نے ورلڈ چمپئن اوکوہارا کو ایک گھنٹے 24 منٹ تک چلے زبردست مقابلے میں 20۔22، 21۔11، 18۔21 سے ہراکر خطاب اپنے نام کرلیا۔ سندھو اس کے ساتھ ہی کوریا میں خطاب جیتنے والی پہلی ہندوستان کھلاڑی بن گئیں۔سندھو کو گزشتہ اگست میں ورلڈ چمپئن شپ کے فائنل میں اوکوہارا سے تین گیموںکے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن یہاں انہوں نے جیت حاصل کرکے اس ہار کا بدل چکادیا اور طلائی تمغہ بھی اپنے نام کرلیا۔ سندھو نے اس جیت کے ساتھ اوکوہارا کے خلاف اپنا کیریر ریکارڈ 4۔4 سے برابر کرلیا۔سندھو کا یہ دوسرا سپر سیریز خطاب ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اس سال اسپین کی کیرولینا مارن کو مات دے کر انڈیا اوپن کا خطاب جیتا تھا۔نیشنل بیڈمنٹن کوچ پلیلا گوپی چند نے سندھو کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'کیا زبردست میچ تھا، دونوں کھلاڑیوں نے زبردست محنت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ یہ ورلڈ چمپئن شپ کے فائنل جیسا ہی کانٹے کا مقابلہ تھا۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ سندھو نے اس بار خطاب اپنے نام کیا۔پہلے دو گیم میں 1۔1 کی برابر ہوجانے کے بعد تیسرے گیم کے پہلے ہاف کے بعد اسکور 5۔11 سے سندھو پوائنٹ ٹیبل میں آگے ہوگئیں۔ اوکوہارا نے اس کے بعد میچ میں واپسی شروع کی اور اسکور 13۔15 ہوگیا۔ سندھو اب بھی دو پوائنٹ سے آگے تھیں۔سندھو نے موقع نہیں گنوایا  اور 14۔17 کی اسکور لائن پر 28 شاٹ کی ریلی کے ساتھ 14۔18 سے اپنے  حق میں کرتی دیکھیں۔ پھر 56 شاٹس کی میچ کی سب سے لمبی ریلی کے ساتھ سندھو نے 16۔19 سے پوائنٹ میں اضافہ کیا اور بالآخر 18۔21 سے گیم جیت کر کوریا اوپن سپر سیریز ٹائٹل جیت لیا اور ورلڈ چمپئن شپ میں ملی شکست کا  بدلہ اوکوہارا سے لے لیا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ اس کی تکمیل میں روکاوٹیں پیدا کرنے والوں کا پورا کچا چٹھا ان کے پاس ہے مگر وہ اس پر سیاست کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ پر کام اسی وقت شروع ہوا جب ایسی پارٹی اقتدار میں تھی جو پارٹی سے ملک کو بڑا مانتی تھی۔وزیراعظم نے سالگرہ کی مبارک دینے والوں کے تئیں ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے لئے جیں گے اور اسی کے لئے مریں گے۔