خوبصورت سیاحتی مقامات سے وابستہ ڈراؤنے حقائق

اگر آپ سیاحت کے شوقین ہیں تو آپ کو چاہیے کہ کسی بھی مقام کی سیر سے قبل اس کے بارے میں چند اہم معلومات ضرور حاصل کر لیں جیسے کہ وہاں کے لوگوں کا طرز زندگی کیسا ہے؟ یا پھر انہیں کیسے کھیل پسند ہیں؟ یا پھر وہ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں؟ وغیرہ- یہ بنیادی معلومات آپ کو ان مقامات کی سیر کے دوران کافی مدد فراہم کرسکتی ہیں- تاہم ہم آج جن خوبصورت سیاحتی مقامات سے وابستہ خوفناک معلومات کا ذکر کرنے جارہے ہیں ان سے دنیا کے اکثر سیاح ناواقف ہیں اور وہ صرف یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے جانے ہیں لیکن ان مقامات کی دل دہلا دینے والی حقیقت سے بےخبر ہوتے ہیں-پیرس کے The Louvre نامی میوزیم میں موجود متعدد آرٹ کے نمونے مختلف ممالک سے چوری شدہ تھے جو کہ نپولین نے ان ممالک پر حملوں کے دوران حاصل کیے تھے-دنیا بھر میں موجود کیسینو میں متعدد افراد ہارنے کے بعد وہی خودکشی کرلیتے ہیں جبکہ ان کیسینو کے عملے میں سے بعض افراد کی یہ خاص ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ فوراً خودکشی کرنے والوں کی لاشیں دیگر افراد کی نظروں میں آئے بغیر کیسینو سے غائب کردیں-پیرس جانے والے زیادہ تر سیاح مشہور سیاحتی مقام ایفل ٹاور کی سیر کو ضرور جاتے ہیں لیکن ایک خوفناک حقیقت یہ ہے کہ اب تک 349 افراد ایفل ٹاور سے کود کر یا لٹک کر اپنی جان دے چکے ہیں-میسوری میں واقع یہ Ozarks نامی مصنوعی جھیل سیلاب کی وجہ سے وجود میں آئی- یہ سیلاب متعدد قبرستانوں میں آیا اور اب خود تصور کرسکتے ہیں کہ اس جھیل کی گہرائی میں کیا کچھ موجود ہوگا-نُووانو پالی ہوائی کا ایک مقبول ترین خوبصورت سیاحتی مقام ہے اور یہی وہ جگہ بھی ہے جہاں بادشاہ Kamehameha کی فوج لوگوں کو اوپر چڑھنے کے لیے مجبور کرتی تھی اور ہزاروں افراد یہاں سے گر کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں-کیلیفورنیا کے ڈزنی لینڈ میں نمائش کے طور پر حقیقی انسانوں کی ہڈیاں رکھی گئی ہیں اور ان کا تعلق کیریبین کے قزاقوں سے ہے- آئرلینڈ کا یہ Cliffs of Moher نامی خوبصورت مقام سیاحت کے حوالے سے تو مقبول ہے ہی لیکن خودکشیوں کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے-ہندوستان کا دریائے گنگا متعدد انسانوں اور جانوروں کی باقیات کی آماجگاہ بھی ہے تاہم یہ سب اس کی سطح پر کھڑے ہو کر نہیں دکھائی دیتا-امریکہ کے نیشنل پارکس میں ہر سال متعدد افراد غائب ہوجاتے ہیں- یہ لوگ یا تو راستہ بھول جاتے ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار بن جاتے ہیں یا پھر جنگلی جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں-جاپان کے ماؤنٹ فیوجی کے نزدیک واقع جنگل کو خودکشی کرنے والوں کا جنگل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر لوگ یہاں آکر خود کو پھندا لگا لیتے ہیں اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں-