منسے کے باغی کارپوریٹر معاملہ: رقم کے لین دین کی تحقیقات کی مانگ

بی جےپی رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا نے کی جانچ کیلئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو مکتوب بھیجا

ممبئی : مہاراشٹر نونرمان سینا کے چھ کارپوریٹروں کے شیو سینا میں شامل ہوجانے کے معاملے پر حالات معمول پر آتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ اُدھر راج ٹھاکرے ، شیوسینا پر چراغ پا ہیں اور اِدھر بی جےپی نے بھی شیوسینا کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے ۔ بی جےپی نے تو اب حملے میں سنجیدگی بھی اختیار کرلی اور تحریری طور پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انسداد بدعنوانی بیورو سے معاملے کی جانچ کی مانگ بھی کر ڈالی۔ بی جےپی کے ممبئی شمال سے رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا نے نونرمان سینا کے چھ کارپوریٹروں کی دل بدلی کے معاملے کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انسداد بدعنوانی بیورو سے جانچ کی مانگ کی ہے۔ کریٹ سومیا نے اس بارے میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تحریر بھی کیا ہے۔ نونرمان سینا چیف راج ٹھاکرے نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ان کے چھ کارپوریٹر دلیپ لانڈے، ارچنا بھالے راؤ، اسنیہل مورے، دتہ نارویکر، پرشورام کدم اور اشونی ماٹیکر کو شیو سینا نے ۵؍کروڑ فی کارپوریٹر ادا کئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو اپنے مکتوب میں سومیا نے کہا کہ کارپویٹروں اور شیوسینا کے درمیان پیسے کا لین دین ممبئی کی کمپنی ’پشپک ‘ بولین کے ذریعے ہوئی ہے۔ اسی فرم کا ڈائریکٹر ۲۲؍ستمبر کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان پر الزام منسوخ کی گئی کرنسی سے کروڑوں کا سونا خریدنے کا الزام تھا ۔ سومیا نے اپنے مکتوب میں یہ بھی کہا کہ نونرمان سینا کے ایک کارپوریٹر ( جس نے شیوسینا میں شمولیت نہیں کی ) نے بھی کہا ہے کہ انہیں کروڑوں روپے کے آفر دئیے گئے۔ کریٹ سومیاسے پہلے بی جےپی کے لیڈر منوج کٹک نے بھی کہا کہ نونرمان سینا کے کارپوریٹروں کے شیوسینا میں شامل ہونے کے معاملے میں نہ صرف ’ہارس ٹریڈنگ ‘ ہوئی ہے بلکہ یہ ممبئی کے ووٹروں کے ساتھ غداری بھی ہے ۔ انہوں نے ممبئی پولس کمشنر، کونکن کمشنر اور اینٹی کرپشن بیورو کو اس معاملے میں جانچ کرنے کی گزار ش کی تھی ۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز نونرمان سینا کے کُل سات کارپوریٹروں میں سے چھ کارپوریٹروں نے شیوسینا میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا کو بی جےپی سے اچھی سبقت مل گئی ، ورنہ بھانڈوپ ضمنی انتخاب میں  جیتنے کے بعد شیوسینا اور بی جےپی کے درمیان صرف ایک ہی سیٹ کا فرق رہ گیا تھا ۔جس کے سبب شیوسینا کا اقتدار بی ایم سی میں خطرہ میں پڑ گیا تھا ۔اس خطرہ سے نمٹنے کیلئے شیو سینا نے انتظام کرلیا اور ایم این ایس کے چھ کارپوریٹروں کو اپنے ساتھ ملالینے میں کامیابی حاصل کرلی۔ کارپوریٹروں کی اس دل بدلی سے ایک طرف نونرمان سینا آگ بگولہ ہے تو دوسری طرف بی جےپی حیرت میں ہے۔ بی جےپی کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا سے اقتدار چھین لے گی لیکن عین وقت پر شیوسینا کے داؤ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے منصوبے پر پانی پھر گیا۔ اب سینا اور بی جےپی کی تعداد میں بی ایم سی میں ایک بار پھر سات نشستوں کا فرق ہوگیاہے۔ جسے کم کرنا بی جےپی کیلئے تقریباً ناممکن ہے ۔ چھ کارپوریٹروں کے اس اقدام سے بی جےپی کا سپنا بھی ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے وہ شیوسینا پر بھڑاس نکال رہی ہے ۔ اب بی جےپی کا سارا زور یہ ثابت کرنے پر ہے کہ کارپوریٹروں نے رقم لے کر شیوسینا میں شمولیت اختیارکی ہے ۔اگر یہ ثابت ہوجاتا ہےتو پھر ممبئی اور مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال آسکتا ہے، کیونکہ شیوسینا ریاست میں بھی بی جےپی کی حلیف جماعت ہے۔