راج شکتی پر نظر رکھنے لوک شکتی مہم کی ضرورت

مودی حکومت نے ملک کی صورتحال بگاڑدی، بلند حوصلہ کسان بھی خودکشی کرنے لگے ہیں: یشونت سنہا

ممبئی:سابق مرکزی وزیر فینانس یشونت سنہا نے آج پھر ایک بار نریندر مودی زیر قیادت حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے زور دیا کہ ’راج شکتی‘ (حکومت) پر نظر رکھنے کے لیے ’لوک شکتی‘ (عوام کی طاقت) ناگزیر ہے۔ کسانوں کی غیر سرکاری تنظیم شیٹکاری جاگرمنچ کے زیر اہتمام ودربھ خطہ کے اکولہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یشونت سنہا نے خاص طور پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر عمل آوری کا ذکر کیا۔ سوشلسٹ لیڈر جئے پرکاش نارائن کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے لوک شکتی تحریک چھیڑنے کی اپیل کی جو راج ستہ پر لگام لگائے گی۔ ’’ہمیں اکولہ سے لوک شکتی کی مہم شروع کرنا ہوگا۔ ہم معاشی انحطاط کا پہلے سے ہی سامنا کررہے تھے اور اب صورتحال ابتر ہوچلی ہے۔ اعداد و شمار کو ایک چیز ضرور ثابت کرسکتے ہیں اور وہی اعداد و شمار کے ساتھ کوئی دیگر فریق اپنا نکتہ بھی شامل کرسکتا ہے۔‘‘ وزیراعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ہماری حکومت کے سربراہ نے اپنی حالیہ گھنٹہ طویل تقریر میں بعض اعداد و شمار کے حوالے سے ظاہر کیا کہ ہندوستان ترقی کررہا ہے اور کہا کہ بڑی تعداد میں کاریں اور موٹر سائیکلیں فروخت ہورہی ہیں۔ کیا اس کا مطلب ملک کی ترقی ہوتی ہے، سنہا نے اس استفسار کے ساتھ کہا کہ یہ تو فروخت ہوئی لیکن کیا کوئی پروڈکشن (پیداوار) ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر نوٹ بندی کے تعلق سے تفصیلی بات سے گریز کررہا ہوں کیوں کہ ایسی چیز کے بارے میں کوئی کہے تو کیا کہے جو ناکام ہوچکی ہے۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے ہم الزام لگاتے تھے کہ اس وقت کی حکومت ٹیکس دہشت گردی اور دھاوا راج لاگو کررہی ہے۔ میرے پاس آج کی صورتحال بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں کیوں کہ آج کل تو بات بات پر دہشت گردی کو موردالزام ٹہرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی ’’گوڈ اینڈ سمپل ٹیکس‘‘ ہوسکتا تھا لیکن برسر اقتدار لوگوں نے اسے ’’خراب اور پیچیدہ ٹیکس‘‘ بنا دیا۔ جی ایس ٹی کے نفاذ میں بے قاعدگیوں کو دور کرنا حکومت کا کام ہے۔ سنہا نے کہا کہ ایک اخباری آرٹیکل کے ذریعہ حکومت کے خلاف انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں عوام کا احساس ہے کہ میں نے ان کی ترجمانی کی ہے۔ ’’میرا تعلق جھارکھنڈ سے ہے جہاں کسان خودکشی نہیں کرتے لیکن حالیہ چند دنوں میں میں نہیں جانتا کہ ایسا کیا ہوگیا کہ وہاں کے کسان بھی خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔‘‘