آدرش سوسائٹی معاملہ:اشوک چوان کی پٹیشن پرہائی کورٹ کافیصلہ محفوظ

گورنرودیاساگررائونے چوان کے خلاف سی بی آئی کوکیس دائرکرنے کی اجازت دے دی تھی

ممبئی:(اسٹاف رپورٹر)آدرش ہائوسنگ سوسائٹی کے معاملے میںسابق وزیراعلیٰ مہاراشٹراشوک چوان کی جانب سے سی بی آئی کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی پٹیشن پربامبے ہائی کورٹ نے اپنافیصلہ محفوظ رکھاہے ۔آدرش سوسائٹی اسکیم میں اشوک چوان کانام بھی عرصے سے اچھالاجاتارہاہے چنانچہ گورنر مہاراشٹر ودیاساگررائونے سی بی آئی کوان کے خلاف کیس دائرکرنے کی منطوری دےدی تھی ۔گورنرمہاراشٹرنے ودیا ساگررائوکے اس فیصلے کوبامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاتھا ۔اسی پٹیشن پرآج بامبے ہائی کورٹ نے اپنافیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ گورنرمہاراشٹرنے امسال ۲۰فروری کوسابق وزیراعلیٰ پرآئین ہندکی مختلف دفعات کے تحت کیس چلانے کی منظوری دے دی تھی ۔اشوک چوان نے اس فیصلے کوبامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کرکے اسے غیرقانونی قراددیااوراسے انصافی سے تعبیرکیا۔ جسٹس رنجیت مورے اورجسٹس سادھناجادھوکی ڈویژن بنچ کوآج اشوک چوان کے وکیل امیت دیسائی نے بتایاکہ گورنرکی جانب سے منظوری مکمل طورپرسیاسی ہےاورتعصب پرمبنی ہے ۔ انہوںنے ججوں کے سامنے سابق گورنرمہاراشٹرکے شنکرناراین کے دسمبر۲۰۱۳کے اس فیصلے کاحوالہ بھی دیاجس میں انہوںنے چوان پرکیس چلانے کی منظوری سے انکارکردیاتھا ۔ بعدمیں سی بی آئی نےاسپیشل کورٹ میںعرضی دائرکرکےمطالبہ کیاتھا کہ اس کیس سے اشوک چوان کانام نکال دیاجائے ۔امت دیسائی نے مزیدبتایاکہ جب نچلی عدالت نے سی بی آئی کی اس عرضی کومستردکردیاتوسی بی آئی ہائی کورٹ پہنچی مگریہا ںبھی اس کی درخواست مستردکردی گئی اورجب ریاست اورمرکزدونوں جگہ بی جے پی برسراقتدارہے توسی بی آئی وہی اپنا۲۰۱۳ کا فیصلہ کودوبارہ دوہراناچاہتی ہے ۔سی بی آئی کے وکیل انل سنگھ اور ہٹین وینگائوکرنے ہائی کورٹ کوبتایاکہ سی بی آئی نچلی عدالت اوربامبے ہائی کورٹ کے حکم کوقبول کرچکی ہے ۔وکیلوں نے یہ بھی کہاکہ اگرہائی کورٹ چوان کی پٹیشن کواجازت دیتی ہے تواس کے معنی یہ ہوگاکہ بعدمیں یہ فیصلہ اشوک چوان کی براء ت کاسبب بن جائے گااوراس معاملے میں جوتفتیش باقی رہ گئی ہیں ،ان کاامکان ختم ہوجائے گا۔دونوں فریقوں کی گفتگوسننے کے بعدہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ کی پٹیشن پراپنافیصلہ محفوظ کرلیاہے ۔خیال رہے کہ اشوک چوان کانگریس کے دورمیں دسمبر ۲۰۰۸سے نومبر۲۰۱۰تک ریاست کے وزیراعلیٰ رہےہیں۔آدرش سوسائٹی کے معاملے میں ملزم ہونے کی وجہ سے ہی انہیں وزارت اعلیٰ کاعہدہ چھوڑناپڑاتھا۔وہ اس وقت مہاراشٹرکانگریس کے صدرہیں۔سی بی آئی نے آدرش سوسائٹی کے لیے ایڈیشنل فلوراسپیس انڈیکس (ایف ایس آئی)کی منظوری دینے کی وجہ سے ملزم بنایاتھا ۔