ہر کسان کو پانی کی فراہمی حکومت کا نشانہ

کانگریس نے آبپاشی پروجیکٹس کو نظرانداز کیا:وزیرآبپاشی تلنگانہ ہریش راو

حیدرآباد:تلنگانہ کے وزیرآبپاشی ہریش راو نے الزام لگایا کہ ریاست کی اصل اپوزیشن کانگریس ، ترقیاتی کاموں اور آبپاشی پروجیکٹس میں رکاوٹیں پیدا کر ر ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی آبپاشی پروجیکٹس کو کانگریس نے اپنے دورمیں نظر اندا ز کیا تھا۔ ہریش راو نے سدی پیٹ ضلع کے کومروپلی منڈل کے تپاس پلی ریزروائر سے پینے کا پانی چھوڑا ۔ اس کے ذریعہ سات دیہاتوں کو پینے کا پانی حاصل ہوگا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر کسان کو پانی کی فراہمی حکومت کا نشانہ ہے۔ انہوں نے کانگریس پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تین بیریجس کے سلسلہ میں مہاراشٹراسے معاہدہ ٹی آرایس حکومت نے کیا ہے جو ایک کارنامہ ہے جبکہ اُس وقت جب مہاراشٹرا ، آندھراپردیش او رمرکز میں بھی کانگریس کی حکومتیں تھیں ۔ ان بیریجس کو مکمل طور پرنظر انداز کردیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ پرانہیتا ۔چیوڑلہ آبپاشی پروجیکٹ کے سلسلہ میں بھی پڑوسی ریاست مہاراشٹرا سے معاہدہ کیا گیا ہے ۔اس کے لئے ماحولیاتی منظوری بھی حاصل کی گئی ہے۔یہ سب کام ریاست میں ٹی آرایس کے برسر اقتدارآنے کے بعد ہی ممکن ہوا ہے تاہم اصل اپوزیشن کانگریس ان آبپاشی پروجیکٹس میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چناکوراٹا بیریج ، تمڈی ہڈی بیریج اور میڈی گڈہ بیریج کا معاہدہ مہاراشٹرا سے کیا گیا اور ان بیریجس کا کام جنگی خطوط پر شروع کیا گیا ۔انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس ہر جگہ عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔کانگریس کلواکرتی آبپاشی پروجیکٹ کے لئے صرف 22ٹی ایم سی پانی لانے میں ہی کامیا ب ہوئی جبکہ ٹی آرایس نے اس پروجیکٹ کے لئے 40ٹی ایم سی پانی الاٹ کیا۔ضلع محبوب نگر کی کئی ایکڑ اراضیات کو آبپاشی کا پانی فراہم کیا جارہا ہے۔وزیراعلی کے چندرشیکھر راو ریاست کے کسانوں کو 24گھنٹے بجلی کی سپلائی کر رہے ہیں۔مشن کاکتیہ اسکیم کے ذریعہ تالابوں کی بحالی کے کام کئے جارہے ہیں۔محبوب نگر میں نٹم پاڈو، بھیما ،کوئل ساگر پروجیکٹس کے کام بھی جنگی خطوط پر انجام دیئے جارہے ہیں۔کانگریس صرف 13000ایکڑ اراضیات کو ہی آبپاشی کا پانی فراہم کرپائی تھی جبکہ ٹی آرایس محبوب نگر کی 60لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی۔انہوں نے کہا کہ محبوب نگر کو ترق یافتہ ضلع میں ٹی آرایس نے تبدیل کیا ہے جبکہ کانگریس نے اس کو پسماندہ ضلع بنادیا تھا۔ٹی آرایس حکومت کسانوں کی بہبود کے لئے کام کر رہی ہے جبکہ حکومت کے ہر کام میں اپوزیشن کانگریس رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔سدی پیٹ کو پہلی مرتبہ گوداوری کا پانی لانے کا سہرہ بھی ٹی آریس کے سر جاتا ہے ۔