گورکھا لینڈ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی شکایت

علاحدہ گورکھا لینڈ کے قیام پر میری پارٹی کا موقف واضح اور صاف ہے: بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش

کلکتہ:مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے آج واضح کیا ہے کہ گورکھا جن مکتی مورچہ کے صدر بمل گورنگ ہی دارجلنگ کے لیڈر ہیں ۔گورکھا علاقائی کونسل (جی ٹی اے)کے نئے سربراہ بنے تمانگ 'گورکھا تحریک کو سبوتاژ کرنے والے ہیں ۔نیو جلپائی گوڑی ریلوے اسٹیشن پر آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے گھوش نے کہا کہ تمانگ نے چوں کہ دارجلنگ تحریک کو کمزور کیا ہے اس لیے عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔گھو ش جو بی جے پی وفد کی قیادت کررہے ہیں نے کہا کہ علاحدہ گورکھا لینڈ پر ہمارا موقف واضح اور صاف ہے ۔اب ممتا بنرجی کو دارجلنگ میں امن کے قیام پر اپنی ذمہ داری متعلق وضاحت پیش کرنی چاہیے۔بی جے پی کے وفد کے دورے سے قبل تشدد کے امکانات پر دلیپ گھوش نے کہا کہ سہ فریقی بات چیت کے اعلان کی وجہ سے حالات اب معمول پر ہیں ۔بی جے پی ہی پہلی ایسی سیاسی جماعت ہے جو دارجلنگ کا دورہ کررہی ہے۔اس سے قبل بنے تمانگ نے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ و مرکزی و زیر ایس ایس اہلوالیہ اور ریاستی صدر دلیپ گھوش سے کہا کہ دارجلنگ کا دورہ کرنے سے قبل یہ واضح کرنا ہوگاکہ بی جے پی کا گورکھا لینڈ کے قیام سے متعلق موقف کیا ہے ۔اس کے بعد ہی انہیں دارجلنگ کا دورہ کرنا چاہیے۔ورنہ انہیں احتجاج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔تمانگ نے کہا کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران جب دارجلنگ کے عوام علاحدہ ریاست کے قیام کیلئے ہڑتال کررہے تھے اس وقت دارجلنگ سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نے ایک لفظ بھی نہیں بولا اور نہ ہی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی ۔بی جے پی کے صدر امیت شاہ بنگال دورے کے دوران دارجلنگ نہیں آنا چاہتے ہیں ۔تمانگ نے کہا کہ ایس اہلوالیہ جو 2014میں دارجلنگ کے عوام کی حمایت سے انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی نے دارجلنگ کے عوام کو مصیبت کے وقت میں تنہا چھوڑ دیا اور اب وہ دورہ کرررہے ہیں ۔خیال رہے کہ گورکھا جن مکتی مورچہ کاباغی گروپ ہی نہیں بلکہ گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ جس نے سب سے پہلے ہڑتال کے دوران ریاستی حکومت سے بات چیت کیلئے پہل کی تھی نے بھی علاحدہ ریاست کی تشکیل کامطالبہ تیز کردیا ہے ۔ 16اکتوبر کو تیسرے راؤنڈ کی میٹنگ ہونے والی ہے ۔گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ کے جنرل سیکریٹری مہندرا چھتری نے کہاکہ ''ریاستی حکومت کے ساتھ پہلے دو دور کی میٹنگ کے دوران جی ٹی اے کا ایشو نہیں اٹھا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ وہ گورکھا مسئلے کا مستقل حل چاہتی ہے۔اس لیے ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ تیسری میٹنگ میں کیا ہوتا ہے ۔اس کے بعد ہی ہماری پارٹی مستقبل کے لئے لائحہ عمل بنائے گی۔اس کے علاوہ جی این ایل ایف نے ریاستی حکومت پر سہ فریقی میٹنگ کیلئے دباؤ بنانے کا فیصلہ کیا ہےچھتری نے کہا کہ دارجلنگ میں تین مہینے تک ہڑتال اور بند رہا۔احتجاج کے دوران 11افرادکی موت ہوگئی مگرکچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔یہ احتجاج نہ بمل گورنگ کیلئے تھا اور نہ ہی بنے تمانگ کیلئے اور نہ ہی جی ٹی اے کیلئے بلکہ گورکھا عوام کیلئے احتجاج کیا گیا تھا۔دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی آف ریوویلنٹری مارکسسٹ نے دوسری جانب ریاستی حکومت پر دارجلنگ کے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کرنے کا الزام عاید کیا ہے ۔پارٹی کے ترجمان گووند چھتری نے کہا کہ تین مہینے کی قربانی کے بعدپہاڑ کے عوام کنفیوژ ہیں ۔اس کیلئے سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہیں ۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کی صحیح رہنمائی کریں ۔جی ٹی اے کبھی بھی مسئلہ نہیں تھا مگر ریاستی حکومت ہمارے اتحاد کو توڑنے میں کامیاب ہوگئی اور یہ تحریک کمزور ہوگئی ۔دوسری جانب گورکھا جن مکتی مورچہ کے صدر بمل گورنگ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی وفد کا خیر مقدم کریں ۔ایک آئیڈیو پیغام میں گورکھا جن مکتی مورچہ کے صدر نے کہا کہ 4اکتوبر کو بی جے پی کا ایک وفد کالمپونگ حالات کا جائزہ لینے کیلئے آرہا ہے ۔ہم پہاڑ کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس وفد کا خیر مقدم کریں اور ان کے سامنے اپنی مشکلات کو رکھیں کہ گزشتہ 104دنوں میں عوام کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑے۔بی جے پی کی 11رکنی وفد 5اکتوبر دارجلنگ کا دورہ کرے گا۔انہوں نے کہاکہ 7اکتوبر کو گورکھا جن مکتی مورچہ کی 11 ویں تاسیس ہے ۔اس لیے اس دن ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جی ٹی اے کو رد کرنا چاہیے ۔کچھ غدار جی ٹی اے کیلئے کام کررہے ہیں مگر جی ٹی اے کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی۔