کشمیری لیڈر انجینئر عبد الرشید تفتیش کیلئے دہلی طلب

این آئی کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس پروادی میں ہلچل تیز

سری نگر: پاکستان اور دوسرے ممالک سے ہونے والی مبینہ ٹیرر فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے سرپرست اور ممبر اسمبلی لنگیٹ (شمالی کشمیر) انجینئر شیخ عبدالرشید کو تفتیش کے لئے این آئی اے ہیدکوارٹر نئی دہلی طلب کرلیا ہے۔ انہیں ۳؍اکتوبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔ اگرچہ این آئی اے نے گذشتہ چار ماہ کے دوران درجنوں علیحدگی پسند لیڈران اور تجارت پیشہ افراد سے پوچھ گچھ کی، تاہم یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب کسی ممبر اسمبلی کو تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔این آئی اے نے پیر کے روز تجارتی انجمن ’کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن‘ کے صدر حاجی محمد یاسین خان، کشمیر یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اعلیٰ فاضلی اور بزرگ علیحدگی پسند راہنما سید علی گیلانی کے فرزند ڈاکٹر نسیم گیلانی کو تفتیش کے لئے طلب کیا تھا۔ این آئی اے پہلے ہی متعدد علیحدگی پسند لیڈران، دو مبینہ سنگبازوں اور ایک کشمیری تاجر کی گرفتاری عمل میں لاچکی ہے۔ این آئی اے نے۵؍ ستمبر کو جنوبی کشمیر میں دو مبینہ سنگبازوں کو گرفتار کیا۔ انہیں مبینہ طور پر سنگ بازی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے ۶؍ اور ۷؍ستمبر کوکشمیر، جموں، نئی دہلی، ہریانہ اور پنجاب میں کم از کم تین درجن مقامات پر چھاپے مار کر تلاشیاں لیں۔یہ چھاپے علیحدگی پسند راہنماؤں اور تجارت پیشہ افراد کے گھروں اور دفاتر پر ڈالے گئے تھے۔ این آئی اے نے ۲۴؍ جولائی کو۷؍ علیحدگی پسند لیڈران کو گرفتار کرکے نئی دہلی منتقل کیا جہاں انہیں ریمانڈ پر تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔ ان میں حریت (گ) ترجمان ایاز اکبر، گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ عرف الطاف فنتوش ، راجہ معراج الدین کلوال(حریت گ ضلع صدر) ،سینئر حریت گ لیڈر پیر سیف اللہ، حریت کانفرنس (ع) ترجمان شاہد الاسلام، نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈار عرف بٹہ کراٹے شامل ہیں۔ این آئی اے نے۱۷؍ اگست کو کشمیری تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی کو نئی دہلی میں گرفتار کیا۔