صحیح معنوں میں اکھلیش کا امتحان اب شروع ہو گا

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کا کل صدر منتخب ہونے کے ساتھ ہی اکھلیش یادو کی صحیح معنوں میں سخت امتحان  شروع ہو جائے گا۔ ایس پی میں اب تک 'ملائم دورچلا گذشتہ یکم جنوری کو پارٹی کے ہنگامی اجلاس میں اکھلیش یادو کو آناً فاناً  صدر منتخب کر لیا گیا۔ یہ کانفرنس ہنگامی حالت میں بلائی گئی تھی۔ لیکن کل کی کانفرنس عام حالات میں منعقد کی گئی ہے۔اس کانفرنس میں متفقہ طور پر پانچ سال کے لیے اکھلیش یادو کو صدر منتخب کیا جانا طے مانا جا رہا ہے۔سیاسی مبصر مانتے ہیں کہ صحیح معنوں میں اکھلیش یادو کا اب سخت آزمائش  شروع ہوگی کیونکہ بی جے پی سے لڑ کر پارٹی کو پھر سے اقتدار میں لانا ان کے لیے مشکل چیلنج ہوگا۔ ایس پی امور کے ماہر سینئر صحافی شیو چرن سنگھ کہتے ہیں کہ 2012 میں پارٹی نے ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں انتخابات لڑ کر فتح حاصل کی تھی، لیکن مسٹر یادو نے تمام تنازعات کے باوجود خود وزیر اعلی بننے کے بجائے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو اترپردیش کی باگ ڈور سونپ دی۔ پارٹی ملائم سنگھ کی قیادت میں چار بار اتر پردیش کے اقتدار پر قابض  رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اکھلیش یادو پارٹی کو کتنی اونچائی تک لے جا پاتے ہیں۔تقریباً چار سال حکومت چلانے کے بعد پارٹی اور یادو خاندان میں اس قدر گھمسان ​​مچی کہ ہنگامی کانفرنس بلائی  گئی۔ ملائم سنگھ یادو کو ہٹا دیا گیا تھا۔ اکھلیش یادو کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ شیوپال یادو حاشیئے  پر چلے گئے۔  پارٹی میں ہل چل مچتی رہی ۔مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ اب اکھلیش یادو کا پارٹی پر تقریبا یک طرفہ اختیا ہے۔ کل صدر منتخب ہونے کے بعد اس کی  تصدیق ہو جائے گی۔ ملائم سنگھ یادو اور شیوپال سنگھ کے ساتھ ان کی بات چیت بھی شروع ہو چکی ہے۔ ہر لحاظ سے پلڑا اکھلیش یادو کے حق میں بھاری دکھ رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں،پارٹی کے کارکنوں اور سینئر رہنماؤں کو خوش رکھنا، پارٹی کو اقتدار میں واپس لانا کسی بھی سخت آزمایش سے کم نہیں ہوگا۔ آگرہ کے تار گھر میدان  میں منعقد ہونے والے کنونشن شروع ہوتے ہی اکھلیش کو صدر چن لیا جائے گا۔