شام: ’حلب کے قدیم علاقے پر حکومتی فوج کا کنٹرول بحال`

چلب کے قدیم علاقے پر گذشتہ چار برس سے باغیوں کا قبضہ تھا۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شام میں حلب شہر کے قدیم علاقے ’اولڈ سٹی‘ پر حکومتی فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب حکومتی فوج کی پیش قدمی کے بعد باغی فورسز نے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔

چلب کے قدیم علاقے پر گذشتہ چار برس سے باغیوں کا قبضہ تھا۔

شامی فوج اس مشرقی حلب کے دو تہائی علاقے کنٹرول کرتی ہے اور ان کی اب کوشش ہے کہ حلب کے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔

تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اب بھی باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد محصور ہیں جہاں خوارک کی اشیا ختم ہو چکی ہیں اور ان علاقوں میں طبی سہولیات بھیں موجود نہیں۔

اس سے قبل منگل کے روز شامی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے شہر میں الشعر نامی علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے شہر میں شیخ الفطی اور مارجہ نامی علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے۔

دریں اثنا شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ پرانے شہر کے تین قصبوں میں مسلح باغی گروہ ’ٹوٹ‘ رہے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ’حلب ائیر پورٹ کے مافاتی علاقے بھی مکمل طور پر چھڑا لیے گئے ہیں۔‘

تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔