دانش گاہوں کے حالیہ نتائج پردھان سیوک کی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں

E بی جے پی اور سنگھ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی طلبہ تنظیم جسے غنڈوں اور لفنگوں کی انجمن کہنا زیادہ مناسب رہے گا کو ذلت آمیز شکست ان کے حوصلوں کو توڑنے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے متاثر و مرعوب کرنے کے کوئی طریقے نہیں چھوڑے لیکن کنہیا کمار ،عمر خالد اور شہلا رشیدنے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ط

نہال صغیر
جواہر لال یونیورسٹی کے بعد بی جے پی اور سنگھ کی طلبہ تنظیم جس کی غنڈہ گردی کا چرچہ پورے عالم میں ہے کو دہلی یونیورسٹی میں شرمناک شکست کا منھ دیکھنا پڑا ہے ۔گرچہ ایک دو دانش گاہوں میں طلبہ کے رجحان کو پورے ملک کے انتخابی نتائج سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن ایسے ماحول میں جبکہ ہر ہر مودی اور گھر گھر مودی کے سمع خراش نعروں کے درمیان ایک کے بعد دوسری ریاست ان لوگوں کے قبضہ میں جارہی ہوجن کا غنڈہ گردی اور دہشت گردی میں یقین ہے ۔جن کو ہندوستانی دستور محض اس لئے منظور نہیں کیوں کہ وہ ایک ایسے شخص کی سربراہی میں مرتب کیا گیا تھا جسے یہ نہ صرف یہ کہ خود سے کمتر سمجھتے ہیںبلکہ اس کے برادری کو انسانی درجہ دینے کو ہی راضی نہیں ۔کانگریس کے لیڈروں سمیت ان کے کیڈر کے لوگوں نے دانش گاہ دہلی کے اس نتیجہ پر یہ کہنا شروع کردیا کہ مودی کے زوال کی شروعات ہو گئی ۔لیکن ایسا مان لینا اور خوش فہمی میں مبتلا ہوجانا عقلمندوں کی نشانی نہیں ہے ۔ہاں اس سے یہ رجحان تو مل ہی جاتا ہے کہ نوجوان نسل ان کی غنڈہ گردی اور افسانوی یا خیالی من گھڑت عقیدوں کے جال میں پھنسنے کو تیار نہیں ۔یہ نتیجہ ان معنوں میں بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ان دونوں دانش گاہوں میں بی جے پی اور سنگھ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی طلبہ تنظیم جسے غنڈوں اور لفنگوں کی انجمن کہنا زیادہ مناسب رہے گا کو ذلت آمیز شکست ان کے حوصلوں کو توڑنے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے متاثر و مرعوب کرنے کے کوئی طریقے نہیں چھوڑے لیکن کنہیا کمار ،عمر خالد اور شہلا رشیدنے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔طلبہ کی غنڈہ تنظیم کی فرضی دیش بھکتی کے نام پر افراتفری اور انارکی اور دوسری طرف کنہیا اور اس کے ساتھیوں کی منطقی باتیں جس نے بالآخر اس جگہ سے اس کا مکمل صفایا کردیا جہاں رہ کر وہ اسے پوری طرح غندہ گردی کا اڈہ بنا کر  اپنے مخالفین کیلئے زمین تنگ کردینا چاہتے تھے ۔بہر حال اسے بی جے پی کا زوال نہیں کہہ سکتے لیکن ممکن ہے یہیں سے ان کے زوال کی شروعات ہو جائے ۔ان کا زوال ضروری بھی ہے ۔اگر انہیں دوسری میقات حکومت کرنے کیلئے مل جاتی ہے تو یہ ہندوستان کو ایک جنگ زدہ خطہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔
ان فاشسٹ قوتوں کو مسلم ناموں اور مسلم تہذیبوں سے دشمنی ہے ۔حکومت میں آتے ہی راستوں اور عمارتوں اور جگہوں کے نام جو کہ مسلم بادشاہوں کے نام پر ہیں اس کی تبدیلی کا کام ترجیحی طور پر کررہے ہیں ۔ گویا کہ اس طرح ناموں کی تبدیلی سے ملک ترقی کرکے دنیا میں اول پوزیشن حاصل کرلے گا ۔بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے زندگی بھر مندروں اور مٹھوں میں مفت کی روٹی توڑی ہے اور عوام کو گمراہ کیا ہے وہ اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں ۔انہیں اس کے علاوہ کوئی تجربہ بھی نہیں ہے ۔انہیں نہیں معلوم کہ ایک ملک کو چلانے کیلئے کیا کیا قابلیت اور حکمتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔یوں تو آزادی کے بعد ملک کو کوئی ایسی قیادت میسر ہی نہیں آئی جو دنیا کی اس دوسرے نمبر کی آبادی والے ملک کو قائد کی حیثیت سے کھڑا کرسکے ۔کانگریس کی پوری حکومت میں خفیہ طور پر مسلم دشمنی کا رجحان اور مسلم دشمن پالیسی پر ملک قائم رہا ۔جن لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ ملک کی چوتھائی آبادی کو حاشیہ پر پہنچانے سے ملک کبھی ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہو سکتا ،ان سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ملک کودنیا کا قائد بنا سکیں گے ۔اب بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں انہی خطوط پر لیکن ذرا بھونڈے پن سے آگے بڑھ رہی ہے ۔اس سبب سے ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول ہے ۔مسٹر پردھان سیوک کے ملکوں ملکوں گھومنے کا صرف ابھی ایک فائدہ نظر آیا ہے کہ جاپان بلیٹ ٹرین چلانے اور اس کیلئے تعمیر کے منصوبے کیلئے راضی ہو گیا ہے ۔اس کے علاوہ مودی حکومت کی کوئی خاص موجودگی نہیں دکھتی ۔یہ بلیٹ ٹرین کا کام بھی نا جانے کب شروع ہو گا اور کب وہ سفر کرنے کے قابل ہوگا نیز اتنا مہنگا سودا ملک برداشت بھی کرپائے گا یا نہیں یا وہ مزید ملک کے وسائل کی بربادی کا سبب بنے گا یہ سب کچھ معلوم کرنا اور اس کا تجزیہ کرنا باقی ہے ۔لیکن مودی حکومت کے ترقی کے دعووں پر کچھ حد تک بولنے کی قوت مل گئی ہے ۔ویسے بھی یہاں کے عوام اتنے بھولے ہیں کہ انہیں کوئی بھی آسانی سے بیوقوف بنا دیتا ہے۔بلیٹ ٹرین کا شوشہ بھی صرف 2019 کے الیکشن کے مد نظر ہی چھوڑا گیا ہے ۔لیکن اوپر جن نوجوان طلبہ لیڈروں کا نام لیا گیا وہ اور کچھ اور نوجوان اس حکومت درپردہ ملک مخالف پالیسی کی راہوں میں مشکلات کھڑی کرتے رہیں گے ۔
موجودہ حکومت کے اڑیل اور ڈکٹیٹر والے رویہ نے ملک میں کم از کم چار ایسے نوجوانوں کی ٹیم تیار کردی ہے جو ان کے خفیہ ایجنڈوں اور اس سے ملک کو ہونے والے نقصان سے عوام کو با خبر کرنے کیلئے کافی ہیں ۔ گرچہ کنہیا کمار ،چندر شیکھر آزاد ،ہاردک پٹیل اور جگنیش میوانی ان چار نوجوانوں میں فی الحال باہمی ربط کی کمی ہے یا وہ ابھی تکمیل کو پہنچا ہی نہیں ہے لیکن جس دن یہ چاروں نوجوان ہندوستان سے بی جے پی کے فاشزم کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے باہم متحد ہو گئے وہ دن بی جے پی کے مکمل زوال کا آخری دن ہو گا ۔موجودہ حکومت اور مودی جی کو بھی اس کا اندازہ ہے اس لئے ان کی حکومت میں ان نوجوانوں پر ملک سے غداری اور انارکی کا الزام عائد کرکے انہیں پابند سلاسل کرنے اور انہیں سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ادھر دہلی میں پہلے سے ہی اروند کیجریوال اور ان کی ٹیم اس بدعنوان حکومت کیلئے مصیبت بنے ہوئے ہیں ۔دہلی کی بوانہ سیٹ پر عام آدمی پارٹی کی جیت نے یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ عام آدمی موجودہ کرپٹ اور دیمک زدہ نظام کے خلاف  امید کی واحد کرن ہے ۔اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے ۔گوا میں گرچہ اس نے کوئی سیٹ تو حاصل نہیں کی لیکن وہاں کئی جگہوں پر دوسرے نمبر پر رہ کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ سیاسی متبادل کے طور پر ہندوستانیوں کو مایوسی سے نکالیں گے ۔یعنی بی جے پی سنگھ خواہ کتنا ہی ادھم مچالیں لیکن ان کے لئے راہیں آسان نہیں ہیں ۔پرانی روایتی پارٹیوں میں گرچہ دم خم نہیں ہے لیکن نئی عام آدمی پارٹی اور حالات کے جبر سے نمودار ہونے والے پرجوش نوجوانوں کی نئی کھیپ انہیں دھول چٹانے کیلئے موجود ہے جس کا اندازہ انہیں 2019 کے انتخاب میں ہو جائے گا اور جس کے اثرات حالیہ دانش گاہوں کے انتخابی نتائج میں نظر آئے ہیں ۔اس لئے وہ لوگ جو ان حالات سے دلبرداشتہ ہیں انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔انہیں چاہئے کہ ان نئے ابھرتے ہوئے نوجوانوں اور ان کے نظریات کو فاشسٹ نظریہ کو مات دینے کیلئے استعمال کریں ۔ صرف سینہ کوبی کرنے اور حالات کا رونا رونے کی بجائے ان کی قوت بنیں ۔