بیوی کی لاش اٹھا کر 12 کلومیٹر کا پیدل سفر

ایک غریب شخص نے مبینہ طور پر ہسپتال سے ایمبولینس نہ ملنے پر اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 12 کلومیٹر تک پیدل سفر کیا۔

انڈیا میں ایک غریب شخص نے مبینہ طور پر ہسپتال سے ایمبولینس نہ ملنے پر اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 12 کلومیٹر تک پیدل سفر کیا۔

بینہ طور پر جس ہسپتال میں اس کی بیوی کا انتقال ہوا تھا وہاں سے گاؤں تک لاش کو پہنچانے کے لیے ایمبولینس مہیا نہیں کی گئی تھی۔

ریاست اڑیسہ کے قصبے بھوانی پٹنہ کے ضلعی ہسپتال میں دانا ماجھی کی 42 سالہ بیوی امنگ تپ دق سے چل بسی تھیں۔

دانا ماجھی کا کہنا تھا کہ اس کا گاؤں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور اس کے پاس گاڑی کرائے پر لینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔

ہسپتال کی انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ہسپتال کے ایک سینیئر اہلکار بی براہما کا کہنا تھا کہ ’وہ خاتون منگل کو ہسپتال میں داخل کرائی گئی تھیں اور اسی رات ان کا انتقال ہوگیا تھا، ان کے شوہر ان کی لاش کو ہسپتال کے عملے کو بتائے بغیر لے گئے تھے۔‘

تاہم دانا ماجھی الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کی بیوی کا منگل کی رات انتقال ہوا تھا اور بدھ کو وہ اس وقت لاش اٹھا کر چلنا شروع ہوئے جب ہسپتال کے عملے کی جانب سے بار بار انھیں لاش لے جانے کے لیے کہا گیا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں اپنی بیوی کی لاش لے جانے کے لیے ہسپتال کے عملے سے گاڑی مہیا کرنے کے لیے درخواست کرتا رہا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں غریب آدمی ہوں اور نجی طور پر گاڑی کرائے پر نہیں لے سکتا تھا میرے پاس لاش کو اپنے کندھے پر اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بدھ کی صبح انھوں نے لاش کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اپنی 12 سالہ بیٹی چولا کے ساتھ میلگھر میں اپنے گاؤں کی جانب چلنا شروع کر دیا تاکہ اس کی آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔

ابھی انھوں نے 12 کلومیٹر کا سفر طے کیا تھا کہ کچھ لوگوں نے مداخلت کی اور بالآخر ایمبولینس آگئی۔

ضلع کالا ہانڈی (جہاں بھوانی پٹہ قصبہ واقع ہے) کے ضلعی کلکٹر برنڈا ڈی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انھیں اس بارے میں معلوم ہوا انھوں نے امنگ کے جسدخاکی کی منتقلی کے لیے گاڑی کو بندوبست کر دیا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نے مقامی اہلکاروں کو اس خاندان کو ہرشچندر یوجنا (غریب خاندانوں کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے رقم فراہمی کی سرکاری سکیم) کے تحت 2000 روپے ادا کرنے کو کہا۔اس کے علاوہ یہ خاندان ریڈ کراس سے بھی دس ہزار روپے حاصل کرے گا۔‘

فروری میں ریاستی حکومت نے غربیوں کے لیے ایک سکیم کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ہسپتال سے لاشوں کو گھر تک گاڑی کے ذریعے پہنچانے کو یقینی بنانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

تاہم ریاست میں‌صحت سے متعلقہ سہولیات کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ کچھ کئی ماہ نصف درجن سے زائد لاشوں کو سائیکلوں، ٹرالی رکشوں اور لکڑی کی چارپائیوں پر در دراز علاقوں تک منتقل کیا گیا ہے۔

دانا مانجھی کی صورت حال کی خبریں سامنے آنے کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ بوین پٹنایک نے جمعرات کو باضابطہ طور پر اس سکیم کا آغاز کر دیا ہے۔

بدھ کی شام کو ہی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔