رپورٹ کے مطابق روس نے سوچی میں منعقد ہونے والے سنہ 2014 کی موسم سرما کے اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں

موسم گرما کے اولمپکس میں روس کی پابندی کے مطالبوں پر منگل کو آئی او سی یعنی اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی طے کرے گی کہ آیا عارضی طور پر روس پر پانچ اگست سے شروع ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی جائے۔

آئی او سی کے صدر تھامس بیچ منگل کو روس کے خلاف عارضی اقدامات اور پابندیوں کے حوالے ٹیلی فون کے ذریعے کانفرنس کال میں مشاورت کریں گے۔

ڈوپنگ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کینیڈا سے تعلق رکھنے والے قانون اور کھیلوں کے پروفیسر رچرڈ مکلیرن نے کی تھی۔

رچرڈ مکلیرن کا کہنا ہے کہ انھیں تحقیقات میں سامنے آنے والے نتائج پر ’پوری طرح اعتماد‘ہے۔

آئی او سی کے صدر نے دستیاب سخت ترین پابندیوں کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈوپنگ ایجنسی کی رپورٹ کے نتائج چونکا دینے والےاور کھیل کی عظمت اور اولمپکس مقابلوں پر ایک غیر معمولی حملہ ہے۔

یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی۔

گرگوری روڈ چنکاف کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوچی میں منعقد کھیلوں کے دوران درجنوں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کی تھیں۔

گرگوری روڈ چنکاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی خفیہ سروس نے ان کی مدد بھی کی تھی۔