نوٹ بندی ۔ انڈر ورلڈ انڈر گراؤنڈہو گیا

پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ بند ہونے کی وجہ سےجہاں بڑےبڑے سیکولر سرمایہ دار اور بلڈروں کی نیند یں حرام ہو گئی تھیں وہیں انکے لئے راحت کی بات یہ ہوئی کہ انھیں انڈر ورلڈ کی جانب سے نہ تو دھمکی بھرے فون آ رہے ہیں اور نہ ہی ہفتہ کے طور پر بڑی بڑی رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جیسے نوٹ بندی کیو جہ سے انڈر ورلڈ انڈر گراؤنڈ ہو گئے ہوں کیونکہ انکی تمام سر گرمیاں بند ہیں لوگوں کے پاس روپیہ نہیں ہے وہ خود ہی پریشان ہیں ایسی حالت میں وہ انڈر ورلڈ کو کیا دینگے۔ انڈر ورلڈ کے لوگ بھی بڑے پیمانے پر صنعتکاروں، دکانداروں اور بلڈروں کو دھماکہ کر ان سے روپئے وصول کیا کرتے تھے ۔ جبکہ پرانی پانچ سو اورہزار روپئے کو نوٹ بند ہو گئی ہے اور نئی نوٹ بینک سے مختصراً مقدار میں ہی نکالی جا سکتی ہے اسلئے لوگوں کے پاس روپئے نہیں ہیں جس کی وجہ سے انڈر ورلڈ ان سے ہفتہ وصولنے سے قاصر ہیں نوٹ بند ہو جانے سے جہاں بڑی مقدار میں لوگ ہزار اور پانچ سو کی نوٹ جمع کر کے رکھے تھے اب انھیں ان سبھی نوٹوں کو نئی نوٹ میں تبدیل کرنا بھی مشکل معلوم ہو رہا ہے اسلئے کہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ اگر بینک کے کھاتے میں جمع ہوئے تو اسکی تفصیل بتانی ہو گی کہ یہ روپئے کہاں سے آئے۔ اسی طرح جن لوگوں کے بنک اکاؤنٹ بندہوچکے تھے یا بہت عرصے سے اس میں روپئے نہیں جمع کرائے گئے تھے۔ اب اگر اچانک انکے اکاؤنٹ میں دو چار لاکھ روپئے جمع ہو گئے تو اسکی بھی پوچھ تاچھ ہو جائے گی ۔ دراصل سرکار کو یہ شبہ ہے کہ جن کے پاس بہت زیادہ روپئے ہیں جو انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے انکی رقم کو کالا دھن سمجھا جائے گا ایسے لوگ اگر کسی کے اکاؤنٹ میں جمع کر کے اسے نکال رہے ہیں تو سرکار کو اسکا پتہ چل جائے گا کہ فلاں شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع ہوتی ہے ان حالات میں اکاؤنٹ ہولڈر کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔ گویا کالے دھن کے نام پہ سرکار جس طرح سے عام آدمی کو مبینہ طور سےپریشان کر رہی ہے اس سے ہر کوئی بیزار ہے مگر اس میں ایک اچھائی یہ بھی ہے کہ اس سے رشوت خوری اور بد عنوانی پر لگام لگ جائے گی گذشتہ شب ہی ایسے کئی لوگ پکڑے گئے۔ جو اپنی رقم تبدیل کروانے لے جارہے تھے دو چار دس کروڑ روپئے سوٹ کیس میں بھر کر لے جارہے ہیں اگر اسکی مخبر ی ہو گی تو پکڑے بھی جا رہے ہیں روپئے ضبط ہو رہے ہیں ہر روز کہیں نہ کہیں سوٹ کیس میں بھرا روپیہ پکڑا جا رہا ہے لیکن بڑی مقدار میں روپئے تبدیل بھی ہو رہے ہیں اب ایک کروڑ پر ۵ ۷؍ لاکھ روپئے دئیے جارہے ہیں گویا نوٹ بدلی کے کاروبار میں بھی لاکھوں کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔
خیر نوٹ بندی سے ہفتہ وصولی کو مکمل طور سے لگام لگ چکا ہے انڈر ورلڈ بھی عام آدمی کی پریشانی کو۔۔۔دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں ملک کی تین تہائی آبادی والا علاقہ ڈیجیٹل بننے جا رہا ہے۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو شاید یہ نہ معلوم ہو کہ ڈیجیٹل انڈیا بنانے کے لئے کچھ اسی طرح کی مشنریز لائی گئی ہیں مگر آج بھی بینک کے زیادہ تر لوگ جو بجلی ۔۔۔ سے بھی محروم ہیں انھیں کمپیوٹر کیسے دیا جائے۔ ایک طرف یہ معاملہ عدالت میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ تو دوسری طرف اب نوٹ بدلنے لگےتھے ہر روز نئے نئے قوانین مرتب کئے جارہےہیں پہلے بینک سے صرف ۲۰ ہزار ہفتہ میں نکالے جاسکتے تھے اب ۵۰ ہزار نکالے جاسکیں گے یہ ایک طرح کی راحت ہے۔لیکن اس سے بھی انڈر ورلڈ کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا وہ اسلئے کہ ابھی سرمایہ داروں کی تجوریاں بھری نہیں ہیں اسلئے گینگسٹر مایوس ہیں وہ انڈر گراؤنڈ ہیں اسلئے کہ ابھی وہ بھی خود کے پاس جمع روپیہ بھنا نہیں پارہے ہیں۔ اس تعلق سے تولوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جنکے پاس بڑی مقدار میں پرانے نوٹ ہیں اسے وہ ابھی دبائے رکھے ہیں حالات کے منتظر ہیں حالانکہ ایسی نوٹ ۲۵ سے ۳۰ فیصد کمیشن پر تبدیل کی جارہی ہے مگر اسکا حل کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ تبدیلی کے نا م پہ بھی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے اسلئے اب اگر کسی کو نوٹ تبدیل کروانا ہے اور وہ ایسے ایجنٹ کو تلاش کر کے انکے ذریعہ نوٹ تبدیل کروا رہے ہوں تو انھیں بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہےتاکہ وہ لٹنے سے بچ جائیں۔
باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ انڈر ورلڈ کے لوگ اب ایسے ہی لوگوں کی تلاش میں ہیں جو بڑی مقدار میں پرانے ہزار پانچ سو کی نوٹ رکھے ہیں اور انھیں تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے لوگ اگر انڈر ورلڈ کے ہتھے چڑھ گئے تو سمجھئے کہ ان کی پوری نوٹ صاف ہو جائینگی اور ہاتھ میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں آئے گی۔ لوگوں میں یہ بھی تشویش ہے کہ انڈر ورلڈکے پاس کروڑوں اربوں روپئے جو جمع تھے اس کا وہ کیا کریں گے تو اس تعلق سے تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا انتظام کر چکے ہیں یہ بھی سنا جارہا ہے کہ خود بینک ملازمین انکی نوٹ اچھا خاصا کمیشن لے کر تبدیل کر ہا ہے۔ خود مینیجر بھی نوٹوں کا بیگ لیکر انکے مقام تک پہنچنے کی اطلاع ملی ہے خیر کالے دھن کی تلاش میں یہ جو تجربہ نوٹ بندی کاکیا گیا ہے اس میں شاید اتنی کامیابی نہ ملے جتنا وہ چاہتے تھے یا سرکار جو نشانہ تھا وہاں تک وہ پہنچ نہیں سکیں گے۔
 کسی نے سچ کہا ہے کہ قانون بننے سے پہلے ہی قانون شکنی کا راستہ تیار کرلیا جاتا ہے سرکار کے ساتھ بھی شاید یہی معاملہ ہوا ہے کالا دھن کالا دھن چلا رہے تھے مگر اس عنوان پر وہ اتنا کامیاب نہیں ہوئےہیں البتہ بڑے بڑے ایسے سرمایہ دار جو بی جے پی ہمنوا ہیں وہ اپنا دھن بڑھانے میں مزید مضبوط و مستحکم ہو گئے ہیں انڈر ورلڈ اپنا روپیہ بچانے اور اسکو نئی نوٹ میں تبدیل کرنے میں مصروف ہےاسلئے انکی تمام تر مجرمانہ سر گرمیاں رکی ہوئی ہیں ایک مرتبہ اگر وہ اپنا دھن سفید کر لے اسے ٹھکانے لگا دئیے تو پھر وہ دوبارہ پوری توانائی کے ساتھ سر گرم ہو جائیں گے۔ تب عام آدمی کا جینا دو بھر ہو جائے گا۔