قطر کیلئے جاسوسی کا الزام سابق صدرڈاکٹر محمد مرسی کوعمرقید

قاہرہ :مصر کی ایک عدالت نے معزول صدرڈاکٹر محمد مرسی کو قطر کے کے لیے جاسوسی کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قائم ایک فوجداری عدالت نے انھیں قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات چُرانے اور انھیں قطر کے حوالے کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔اسی مقدمے میں عدالت نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے دو ملازمین سمیت چھے افراد کو مصر کی قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات قطر کو دینے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔انھوں نے مبینہ طور پر ڈاکٹر محمد مرسی کے مختصر دور صدارت میں یہ دستاویزات قطر اور دوحہ میں قائم الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک تک پہنچائی تھیں۔واضح رہے کہ ایک اپیل عدالت نے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر مرسی کو سنائی گئی پھانسی کی تمام سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں اور اب انھیں تختہ دار پر لٹکانے کا کوئی خدشہ نہیں رہا ہے۔البتہ انھیں جاسوسی اور دوسرے مقدمات میں سنائی گئی قید کی لمبی سزائیں برقرار ہیں اور وہ اس وقت جیل کاٹ رہے ہیں۔یاد رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈاکٹر محمد مرسی کو 3 جولائی 2013ء کو صدارت سے معزول کردیا تھا اور انھیں گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا گیا تھا۔