فلسطین کو انٹر پول کی مکمل رکنیت

اسرائیل کی جانب سے سخت مخالفت ، انٹرپول کی رکنیت ملنے کے بعداس تنظیم سے اسرائیلیوں کے خلاف دنیا بھر میں ’ ’ ریڈ نوٹس‘‘ کے اجراء کی درخواست کر سکتا ہے۔اس کے تحت بین الاقوامی پولیس مطلوب کسی اسرائیلی شخص کو گرفتار کرسکتی ہے اور اس کو بے دخل کرکے فلسطین کے حوالے کرسکتی ہے

بیجنگ : بین الاقوامی سطح پر فلسطین کو ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ملی جب انٹرپول نے اس کو بطور رکن تسلیم کر لیا جبکہ اسرائیل کو تمام تر کوششوںکے باوجود منہ کی کھانی پڑی ، جس کی وجہ سے صہیونی ریاست کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگیا ہے اور وہ اس کی شدید مخالفت کرتا ہوا نظر آرہا ہے  جبکہ فلسطین کے عہدیداروں سمیت عالم اسلام نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے وہ اس کی اس لئے مخالفت کر  رہا تھا کہ فلسطین اسرائیلیوں کو گرفتار کروانے کیلئے انٹر پول کا استعمال کر سکتا ہے۔ اسرائیلی مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطین انٹرپول کی رکنیت ملنے کے بعداس تنظیم سے اسرائیلیوں کے خلاف دنیا بھر میں ’ ’ ریڈ نوٹس‘‘ کے اجراء کی درخواست کر سکتا ہے۔اس کے تحت بین الاقوامی پولیس مطلوب کسی اسرائیلی شخص کو گرفتار کرسکتی ہے اور اس کو بے دخل کرکے فلسطین کے حوالے کرسکتی ہے۔ گزشتہ روز انٹرپول کے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں فلسطین کی رکنیت کے لئے رائے شماری کی درخواست کی گئی۔ اس موقع پر ۷۴؍ ممالک نے فلسطین کو رکنیت دینے کے حق میں رائے دی جبکہ ۲۴؍ ممالک کی جانب سے اس  کی مخالفت کی گئی ۔ واضح رہے کہ انٹر پول میں مجموعی طور پر ۱۹۲؍ ممالک رکن ہیں ۔ فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے انٹرپول کی رکنیت کے لیے فلسطین کی حمایت کرنے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ انٹرپول کی جانب سے فلسطین کی رکنیت قبول کرنا فلسطینی ریاست کے نفاذ قانون، ادارے کی بنیادی اقدار اور اصولوں پر پابندی اور فلسطینی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنے کا ثبوت ہے۔ان کا کہنا  ہے کہ انٹرپول میں فلسطین کو رکنیت کا درجہ ملنے کے بعد عالمی سطح پر فلسطینی کردار دار کرنے، فلسطینی قوم کے حقوق کے دفاع، آزادی کے لئے سفارتی اور قانونی ذرائع اختیار کرنے اور مزید عالمی اداروں میں شمولیت کا نیا موقع مل گیا ہے۔