بیت المقدس میں اسرائیلی فوج دہشت گرد کارروائی، ایک فلسطینی نوجوان گرفتار

اسیران کو’دہشت گرد‘ قراردینے پرسابق وزیر پر فلسطینی سراپا احتجاج

مقبوضہ بیت المقدس :فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں جبر مکبر کے مقام پر اسرائیلی فوج نے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک فلسطینی نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جبل المکبر کے مقام پر تلاشی کے دوران ایک فلسطینی نوجوان کو محمد عویسات کو حراست میں جسے بعد ازاں ایک تفتیشی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔محمد عویسات کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں آئے روز قابض فوج نہتے شہریوں کےگھروں پر چھاپے مار انہیں زدو کوب کرتی اور انہیں حراست میں لے لیتی ہے۔
فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے رام اللہ میں صدر محمود عباس کے ماتحت سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جماعت کے رہ نماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی ایک بار پھر مذمت کی ہے۔ اسلامی جہاد نے سیاسی بنیادوں پر کارکنوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ بند کرنے اور تمام گرفتار سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے مرکزی رہ نما احمد المدلل نے غزہ کی پٹی میں جماعت کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی سے خطاب میں کہا کہ سیاسی کارکنوں کو بغیر کسی الزام کے گرفتار کرنا بدترین ظلم ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی زیرحراست جماعت کے کارکنوں اور رہ نماؤں کو فوری طور پررہا کرنے کا اعلان کرے اور مزید گرفتاریوں کا سلسلہ مستقل طور پر بند کیا جائے۔اسلامی جہاد کے زیراہتمام فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے خلاف نکالی گئی ریلی میں سیکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں گرفتار سیاسی کارکنوں کی تصاویر اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی اتھارٹی کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب میں فلسطینی اتھارٹی پر الزام عاید کیا کہ وہ مجاھدین کو کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسلامی جہاد کے کارکنوں اور رہ نماؤں کو بغیر کسی جرم کے صرف اسرائیل کی خوش نودی کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔  
جبکہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں سنہ 1948ء کے علاقوں کے درمیان سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم سے کم تین فلسطینی زخمی ہوگئے۔ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ غزہ کے شمالی علاقے جبالیا کے مقام پر فلسطینی شہریوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا اور ریلی کی شکل میں سرحد کی طرف مارچ کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ سے نشانہ بنایا۔فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کے نتیجے میں تین فلسطینی نوجوان زخمی ہوئے ہیں۔اشرف القدرہ کے مطابق زخمی ہونے والےتینوں شہریوں کو شمالی غزہ کی پٹی میں انڈونیشی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق انہیں درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔خیال رہے کہ غزہ کی پٹی کے ہزاروں شہری ہر ہفتے غزہ اور اندرون فلسطین کے علاقوں کے درمیان قائم باڑ کے قریب جمع ہو کر غزہ پر مسلط کی گئی اسرائیلی پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔
دوسری خبر کے مطابق فلسطین اتھارٹی کے ایک سابق وزیر کے حال ہی میں فلسطینی اسیران کے بارے میں سامنے آنے والے ایک اشتعال انگیز پر عوامی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سابق وزیر اشرف العجرمی نے اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹنے والے فلسطینیوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دینے کی مذموم جسارت کی جس پر فلسطین کے عوامی ، سیاسی اور مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی سیاسی جماعتوں العجرمی کے بیان کو صہیونی دشمن کی ترجمانی قرار دیتے ہوئے فلسطینی قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔فلسطینی سیاسی جماعت عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے العجرمی کے بیان کو دشمن کی ترجمان قرار دیتے ہوئے ان کے ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی محاذ کا کہنا ہے کہ العجرمی نے بیت المقدس میں صہیونی حکام کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں جہاں قابض دشمن کے ساتھ دوستانہ مراسم بڑھانے پر بات کی وہیں انہوں نے اسرائیلی دشمن کی جیلوں میں پابند سلاسل ہزاروں فلسطینی قومی ہیروز کی قربانیوں کی توہین کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ العجرمی اسیران کو دہشت گرد قرار دے کر پوری قوم کی دل آزاری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہیں فوری گرفتار کرکے ٹرائل شروع کیا جائے اور اسیران کی توہین کرنے پر انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ العجرمی جیسے شرپسند اور دشمن نواز عناصر اگر فلسطینی قوم میں موجود ہوں تو فلسطینیوں کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔