بدحال روہنگیائی مسلمانوں کی مدد کی اپیل

ترک خاتون اول کا عالمی سربراہان کی بیگمات کو خط ، روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے کوششوں کی اپیل،پناہ گزینوں میں امدادکی تقسیم کے دوران بھگدڑ ، ۳؍ جاں بحق

اسنبول؍ڈھاکہ :ترک خاتون اول ا مینہ اردگان نے کہا ہے کہ عالمی سربراہان کی بیگمات کو خط کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کے خلاف کوششیں صرف کرنی کی اپیل کردی ۔ترک میڈیا کے مطابق خاتون اول امینہ اردگان نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے المیہ اور حالت زار پر توجہ مبذول کرانے کے لیے عالمی سربراہان کی بیگمات کو ایک ایک خط بھیجا ہے۔امینہ اردگان نے اس خط میں بنگلہ دیش کے دورے کے حوالے سے اپنے خیالات کو قلم بند کرتے ہوئے رخائن مسلمانوں کو درپیش مصائب اور ترکی کی امدادی سرگرمیوں کا ذکر کیا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقے میں جاری وحشیانہ کاروائیاں عالمی حقوق انسانی اعلامیہ کی سرِ عام خلاف ورزیاں ہیں۔ عالمی سربراہان کی بیگمات سے ایک زوجہ، ایک ماں ، ایک عورت اور ایک انسان ہونے کے ناطے صدا بند ہونے والی محترمہ امینہ نے لکھا ہے کہ " میں سمجھتی ہوں کہ بلا کسی نسلی و مذہبی تفریق کے ہم سب انسانی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ عالمی برادری جلد از جلد اس حوالے سے اقدامات اٹھائے۔
بنگلا دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے مطابق کاکس بازار کے روہنگیا پناہ گزینوں کے درمیان کھانے اور کپڑوں کی تقسیم کے دوران بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا۔جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ میانمار سے فوج اور بدھ ملیشیاؤں سے جان بچا کر بنگلا دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 4لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیراعظم شیخ حسینہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کا معاملہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں اٹھا سکتی ہیں۔محترمہ حسینہ مختلف ممالک سے اس معاملہ پر میانمار پر دباؤ بنانے کی گزارش کریں گی۔ وزیراعظم حسینہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے آج نیویارک کے لئے روانہ ہوگئیں۔ محترمہ حسینہ کے پریس سکریٹری احسان الکریم نے ڈھاکہ میں بتایا کہ میانمار کے رخائن صوبہ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کئی معاملے سامنے آرہے ہیں۔ مسٹر کریم نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کو نسلی قتل عام قرار دیا ہے۔روہنگیا کمیونٹی کے خلاف جاری تشدد کی وجہ سے سرحد کے دونوں طرف انسانی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جارہی نسلی تشدد کی وجہ سے اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سوکی چوطرفہ مخالفت کا بھی سامنا کررہی ہیں۔ میانمار میں جاری اس تشدد کی وجہ سے اب تک تقریباََ تین لاکھ 70ہزار روہنگیا میانمار سے نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔خیال رہے کہ محترمہ سوکی نے میانمار کی اسٹیٹ کونسلر کے طورپر گزشتہ برس اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کی تھی۔ خطاب میں محترمہ سوکی نے اقلیتی روہنگیا مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے لئے میانمار حکومت کی جانب سے کئے گئے کاموں کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کی جارہی کوششوں کی بھی حمایت کی تھی۔
روہنگیا بحران : انڈونیشیامیںہزاروں افراد کا احتجاج
جکارتہ:انڈونیشیا میں ہزاروں افراد نے روہنگیا مسلمانوں سے یکجہتی کیلئے مظاہرہ کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جکارتہ میں ہزاروں شہری سڑکوں پر آ گئے اور روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔شرکا نے انڈونیشیا کے جھنڈے اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر روہنگیا مسلمانوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں ریلیاں اور مظاہرے ہو رہے ہیں۔انڈونیشیائی صدر جوکو وڈوڈو نے بھی میانمار صدر سوچی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔