۵؍ مسلمان گئو رکشکوں کا نشانہ

فرید آباد میں ہندودہشت گردوں کا تشدد، نوجوان کےجسم کے مختلف اعضاکی ہڈیاںتوڑ دی

فرید آباد،( ایجنسی):سپریم کورٹ اوروزیراعظم نریندرمودی کی نام نہادگئورکشکوں کوسخت ہدایات کے باوجودگائے کے شبہ میں مسلم نوجوانوں پرحملے بندہونے کانام نہیں لے رہے ہیں۔تازہ واقعہ درالسلطنت دہلی کے قریب ہریانہ کے شہر فریدآباد کاہے جہا ںگائے کاگوشت لے جانے کے شبہ میں پانچ مسلم نوجوانوں کوبے دردی سے پیٹ دیاگیاہے ۔ ان پانچوں میں سے جونوجوان سب سے زیادہ متاثر ہواہے ،اس کی شناخت آزادکےطورپرہوئی ہے ۔ ہندودہشت گردوں نے اسے اتناپیٹاہے کہ اس کے جسم کے مختلف اعضاکی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں اوراب وہ اسپتال میں زیرعلاج ہے ۔شروع شروع میں ہریانہ پولیس نے اس معاملے میں متاثرین ہی کے خلاف کیس درج کیاتھا اوران پرگائے اسمگلنگ کرنے کی دفعات عائدکی تھیں مگرجب بعدمیںتصدیق ہوئی کہ یہ گائے کاگوشت نہیں بلکہ بھینس کاگوشت تھا توپھرپولیس نے کیس واپس لیا۔ذرائع کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کی صبح میں فریدآبادکے بساڑی گائوں میں پیش آیاہے ۔جسمانی طورپرمعذورآزاداپنے آٹورکشامیں دوکانوں پرگوشت سپلائی کرنے جارہاتھا کہ اسے چندلوگوں نے روک دیااوراس پرالزام لگایاکہ وہ گائے کاگوشت اسمگلنگ کررہاہے ۔حالاں کہ آزادنے ان سے کہاکہ یہ گائے کاگوشت نہیں ہے مگرہندودہشت گردوں نے ایک بھی نہ سنی کیوں کہ انہیں ان مسلمانوں کوپریشان ہی کرناتھا ۔آرایس ایس کے ان چیلوں نے بے چارے آزادپرلاٹھیوں اورڈنڈوں کی برسات کردی ۔جب تک اس کے بھائی اوررشتے داروں کوخبرہوپاتی تب تک بہت دیرہوچکی تھی کیوں کہ آزادکابدن زخموں سے چور چور ہو چکا تھا ۔نیوزایجنسی کے مطابق ان دہشت گردہندئوں نے آزاد سمیت اس کے چاروں ساتھیوں سے ’’جے ہنومان‘‘کہنے کوکہا۔جب اس نے انکار کیا تو انہوں نے ’’جے گئوماتا‘‘کہنے کو کہا پھربھی آزادنے انکار کردیا ۔ اس پریہ دہشت گرد بپھر گئے اوراسے زخموں سے لہولہان کردیا ۔ سینئر پولیس افسررادھے شیام نے اس کی تصدیق کردی ہے کہ سپلائی کیاجانے والاگوشت بھینس کاگوشت تھا ۔ گوشت فارنسک جانچ کے لئے روانہ کیاگیاتھاجس کی رپورٹ میںیہ بات ثابت ہوگئی ہے مذکورہ گوشت گائے ہی کا ہے۔انگریزی اخبار’’دی ہندو‘‘ کی خبر کے مطابق حملہ کرنے والوں نے موبائل فون سے اس سارے واقعہ کی منظر کشی کی اور سوشیل میڈیا پر اس ویڈیو کو وائیر ل بھی کیا۔مزے کی بات تو رہی کہ تمام واقعہ کچھ پولیس والوں کے سامنے پیش آیا۔ ایک ایف ائی آر خود ساختہ گاؤ رکشکوں پر بھی درج کرائی گئی ہےاورمجرمین ابھی تک آزادگھوم رہے ہیں ۔ان پانچوںکا علاج مقامی اسپتال میں کیاجارہا ہے۔مرکز میں نریندر مودی کے قیادت میںآنے کے بعد سےجون ۲۰۱۷تک تک گائے کے نام پر تشدد کے واقعا ت میں ۹۷فیصدتک کا اضافہ ہوا ہے۔مودی کی اپیلوں کے باوجودان نام نہاد گئور کشکوں پرکوئی اثرنہیں ہورہاہے اس کامطلب یہ ہے کہ انتظامیہ اندرونی طورپران ہندودہشت گردوں کوشہہ دے رہی ہے ۔