یو پی کے مدارس ، اسکولوں میں قومی ترانہ لازمی

مفاد عامہ کی عرضی مسترد ، مدرسوں میں قومی ترانہ کو لازمی نہ قرار دینے کی گزارش کی گئی تھی، یو پی سرکار کا فیصلہ برقرار

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے آج مفاد عامہ کی اس عرضی کو مسترد کر دیا جس میں یوپی حکومت کو تمام مدرسوں میں قومی ترانہ کو لازمی نہ قرار دینے کا حکم دینے کی گزارش کی گئی تھی۔ در خواست دہند گان مدرسے کے منتظمین ہیں۔ انہوں نے حکومت اترپردیش کے 3 اگست کے حکم کو چیلنج کیا تھا ۔ درخواست میں گزارش کی گئی تھی کہ حکم کا اطلاق مدرسوں پر نہ ہو۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دینی مدارس میں لازمی طور سے قومی ترانہ گانا ہوگا ۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ قومی ترانہ اور قومی پرچم کا احترام ہر شخص اور ادارے پر لازم ہے۔ ایسے میں دینی مدارس کو اس سے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ہائی کورٹ نے اس عرضی کو  بھی مسترد کر دیا ہے جس میں یوگی حکومت کی طرف سے دینی مدارس  میں لازمی طور سے قومی ترانہ اور قومی پرچم نافذ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ  ریاست کی یوگی حکومت نے پندرہ اگست اور چھبیس جنوری کو سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس میں قومی پر چم لہرانے اور قومی  ترانہ گانے اور اس کا ویڈیو حکومت کو فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت  کےاس فیصلے کے خلاف مدرسوں نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما کی بنچ نے کہا کہ درخواست دہندگان یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ طلبا کو قومی ترانہ گانے میں ا عتراض کیوں ہے۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما کی بنچ نے کہا کہ درخواست دہندگان یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ طلبا کو قومی ترانہ گانے میں ا عتراض کیوں ہے۔  عدالت نے کہا کہ قومی ترانہ گانا اپنی روایت کو عزت دینا ہے۔