ڈیٹا آئن لائن نہ کرنے والے۳؍ ہزار مدارس کی منظور ی رد کئے جانے کا خدشہ

لکھنؤ : اترپردیش میں یوگی حکومت کے آنے کے بعد مدارس کی پریشانیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ یوگی حکومت کے مدارس کو آن لائن کرنے کے فرمان کی میعاد ختم ہونے کے بعد اب تقریباََ ۳؍ ہزار  مدارس پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ان مدارس نے اپنا ڈیٹا آن لائن نہیں کیا ہے ، جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے اور ان کی منظوری کو رد بھی کیا جاسکتا ہے۔اترپردیش مدرسہ بورڈ کے رجسٹرار راہل گپتا کے مطابق اس سے پہلے آن لائن کرنے کی میعاد میں ریاستی حکومت نے دو مرتبہ توسیع کی تھی اور آخری تاریخ ۱۵؍ اکتوبر تھی ۔ اب رجسٹریشن بند ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں حکومت سے امداد یافتہ سبھی ۵۶۰؍ مدارس نے اپنے ڈیٹا کو آن لائن کردیا ہے۔راہل گپتا کے مطابق ریاست میں تقریبا۱۹؍ ہزار ۵۰۰؍ مدارس ہیں ، ان میں سے تقریباََ۱۶؍ ہزار ۵۰۰؍مدارس نے اپنے ڈیٹا کو آن لائن کردیا ہے لیکن اب بھی ریاست کے تقر یباََ ۳؍ہزار  مدارس نے اپنا ڈیٹا کو آن لائن نہیں کیا جن  کے خلاف اب کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مدارس جنہوں نے اپنے ڈیٹا کو آن لائن نہیں کرایا ہے ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کی منظوری کو رد کرنے کیلئے یوگی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔