ملک کو خوف و دہشت کے ماحول سے نکالنا اورامن کی بحالی ضروری

حالیہ سیاسی تناظر میں عوام میں بیداری اور فاشسٹ قوتوں کیخلاف ہم خیال تنظیموں کو متحد کرنے کی غرض سے دو روزہ سمینار کا اختتام

ممبئی : (نہال صغیر )ملک میں موجودہ صورتحال نے سنجیدہ اور حساس شہریوں کو بے چین کردیا ہے ۔انہیں ملک کی موجودہ حالت میں اس کی سلامتی کے تعلق سے فکر و تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔لہٰذا ملک کی مقدر شخصیات اور تنظیموں نے ان حالت میں عوام ک رہنمائی کے لئے اور ملک کو فرقہ وارانہ قوتوں کے دست برد سے محفوظ رکھنے کیلئے انہیں ایک فارم پر آنے اور کوئی ایسی تحریک چلانے کیلئے مجبور کردیا ہے جس سے ملک کے عوام فاشسٹ قوتوں کی شکل کو اچھی طرح پہچان کر انہیں اقتدار سے باہر کردیں ۔اس ضمن میں ممبئی میں ’دستور بچائو ،ملک بچائو ‘ عنوان سے الائنس فار جسٹس اینڈ پیس کے بینر تلے دو روزہ سمینار ۱۵ ،۱۶ ؍اکتوبر کا انعقاد ہوا ۔اس کے آخری دن آج مراٹھی پتر کار سنگھ میں اخباری نمائندوں کیلئے رکھے گئے سیشن میں میڈیا نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے تیستا سیتلواد نے کہا کہ ہمارے لئے ہر الیکشن اہم ہے خواہ وہ ضمنی ہو یا عام ۔وہ ایک اخباری نمائندہ کے حالیہ مہاراشٹر ناندیڑ شہری اکائی اور پنجاب کے گرداسپور میں پارلیمانی انتخاب میں کانگریس کی شاندار جیت پر پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈہ کسی پارٹی کی نمائندگی کرنے والا نہیں ہے بلکہ ملک کو موجودہ خلفشار والے ماحول سےنکال کر امن و امان والے ماحول میں واپس لانے کا ہے ۔مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور متحرک سماجی رکن مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ تحریک سیاسی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ نہ ہی یہ خالص سیاسی ہے اور نا ہی خالص سماجی اس مقاصد میں دونوں ہی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے ترجیح اس بات کی ہے کہ کسی بھی طرح ملک کو انارکی سے بچا کر یہاں امن و امان والی فضا بحال کی جائے اور اسے فاشسٹ قوتوں سے بچایا جائے۔ان کا اشارہ موجودہ بی جے پی حکومت میں فسادات اور ہجوم زنی میں قتل عام کی جانب تھا ۔تیستا سیتلواد نے کہا کہ کانفرنسیں اور سمینار توروز ہوتے ہیں لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ اس طرح کانفرنسوں اور سمیناروں کو ایک متحرک قوت میں بدل کر موجودہ بحران پر قابو پایا جاسکے ۔پونے سے آئے مول نواسی مسلم منچ کے صدر سابق انجم انعام دار سے یہ سوال کرنے کہ کیا اس طرح کی کسی تحریک کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکل سکتا ہے یا یہ تحریک کہاں تک اثر پذیری کی قوت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسی کے سبب  کاروبارختم ہیں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے  اور لوگوں کو فضول اشو میں الجھایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی وی ساونت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی جیسی شخصیات کی شمولیت سے اس تحریک کے تئیں عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا  یہ لوگ قابل اعتماد ہیں ان سے اس تحریک کو قوت ملے گی ۔ان کی شمولیت سے لوگوں میں جو خوف ہے کہ وہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر کچھ بولتے نہیں وہ خوف اور وہ جمود ٹوٹے گا اور ان میں حوصلہ پیدا ہوگا کہ وہ آگے آکر ظلم اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے ۔سمینار میں شمولیت کے لئے آئے سدھیر ڈولے ریپبلکن پنتھر نامی تنظیم کے ذمہ دارجو کہ آدیباسیوں میں کام کرتے ہیںسے یہ سوال کئےجانے پر کہ کیا ملک کی سیاست ہمیشہ کانگریس اور بی جے پی کے دو گول پوسٹ کے درمیان ہی گھومتی رہے گی ،کوئی تیسری سیاسی قوت سامنے لانے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کی جاتی ؟انہوں نے کہا کہ ملک میں تیسری قوت کی ضرورت تو ہے لیکن اس جانب کوئی بھی قدم نہیں بڑھاتا ،انہوں نے کہا کہ سیتلواد کہتی تو ہیں کہ ہمارا کسی سیاسی پارٹی سے الائنس نہیں ہے لیکن یہ سمینار اور یہ تحریکیں سب کچھ کانگریس کی جھولی میں ہی جانے والی ہیں ۔سدھیر ڈولے کے مطابق تیسری قوت کے لئے آواز بہت ہلکی اور تحریک ناپید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظام کو بدلنے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن اسے بدلنے کیلئے کوئی کوشش نہیں ہوتی ۔جیسا کہ جسٹس پی وی سامنت نے کہا کہ جب تک اس نظام کو نہیں بدلا جائے تب حصول انصاف ناممکن ہے اور ملک کے وسائل کا یکساں اور مبنی بر انصاف تقسیم نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے عدلیہ کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ اسی ناانصافی اور نا برابری نے سماج میں جرائم والی ذہنیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔