سنگیت سوم کی اشتعال انگیزی، حکومت نے خود کو علاحدہ کیا

بی جے پی ممبر اسمبلی نے مغل سلطنت کے حکمرانوں کی تاریخ کو ملک کے لئے دھبہ بتایا تھا

لکھنؤ: اترپردیش حکومت نے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم کے ذریعہ تاج محل اور مغل سلطنت کے حکمرانوں کےخلاف دیئے گئے متنازع بیان سے کنارہ کر لیا ہے۔ اس معاملہ میں یوپی حکومت کی سیاحتی وزیر ریتا بہوگنا جوشی نے کہا ہےکہ یہ ایک ذاتی رائے ہے۔ کسی شخص کی ذاتی رائے پر مجھے کچھ نہیں کہنا ہے۔ڈاکٹر ریتا جوشی نے کہا کہ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، ہمارا  یقین ہے کہ تاج محل ایک وراثت ہے۔ ہم آگرہ کی ترقی کے تئیں عہد بستہ ہیں۔ ہم آگرہ میں بہت کام کر رہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ میراث کے ساتھ ایک سیاحتی مقام ہے، یہ ہمارا فخر ہے۔ایودھیا میں دیوالی کے لئے ایک خاص اہتمام پر انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال سے دیوالی منائی جاتی  ہے۔ جتنا پیسہ ایودھیا میں لگ رہا ہے اس سے کم آگرہ میں نہیں لگ رہا ہے۔ کروڑوں سیاح وہاں آتے ہیں۔ ہم وہاں دیوالی کو ایک شناخت بنانا چاہتے ہیں۔ واضح  رہے کہ میرٹھ کے سردھنا سے بی جے پی ممبر اسمبلی سنگیت سوم نے مغل سلطنت کے حکمرانوں کی تاریخ کو ملک کے لئے دھبہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ سے مغل دور کے حکمرانوں کو نکال کر اب یوپی میں ہندوؤں کی تاریخ کو دکھایا اور پڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہےکہ یوپی حکومت اکبر ،بابر اور اورنگزیب جیسے’ کلنک ‘کہانی لکھنے والے بادشاہوں کو تاریخ سے نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔سماج وادی پارٹی کی ترجمان جوہی سنگھ نے کہا کہ سنگیت کو کو ئی تاریخی کتاب پڑھنے کیلئے دیا جانا چاہئے۔ شاہ جہاں کی حکمرانی کیسی تھی؟ تاج محل کی خوبصورتی  کا تذکرہ کس طرح کر سکتی ہے؟ جوہی سنگھ نے سوال پوچھا کہ کیا وہ تاج محل کے ساتھ لال قلعہ، جامع مسجد کو بھی توڑیں گے؟ کانگریس کے ریاستی ترجمان وریندر مدان نے کہا کہ سنگیت سوم کا اس طرح کا  بیان سن کر کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ وہ آر ایس ایس کے ہیں۔ آر ایس ایس کی زبان بول رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے یہ حکومت ترقی کے بارے میں بات کرتے ہیں،  سب کا ساتھ سب کا وکاس۔ دوسری طرف۲۰۱۹ء کے انتخابات اور اتر پردیش اور ملک کے لوگوں کوبانٹناانکے ذہن میں رکھنا۔