آنگ سانگ سوچی کیلئے آخری موقع

روہنگیائی پناہ گزینوں کو واپس لیا جائے ورنہ حالات بد ترین ہو جائیں گے: اقوام متحدہ کی سخت ترین وارننگ

نئی دہلی،(ایجنسی):میانمارمیں روہنگیامسلمانوں کے خلاف توڑے جارہے ظلم وبربریت کے پہاڑپربالکل خاموشی اختیارکرنے والی میانمارکی سربراہ مملکت آنک کانگ سوچی کوآج اقوام متحدہ نے زبردست دھمکی دی ہے اورملک کی ریاست راخن میں میانمارفو ج کی جانب سے کی جارہی کارروائی کوعلی الفوربندکرانے کاحکم دے دیاہے ۔اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیوگوٹرس نے بی بی سی کودیے گئے ایک انٹرویوکے دوران کہاہےکہ اگراب بھی آنک کانگ سوچی نے ان مسلمانوں کے خلاف ہورہے ظلم کونہیں روکاتوحالات نہایت خوف ناک ہوجائیں گے ۔مسٹرانٹونیوگوٹرس نے کہاکہ منگل کے دن ہوئے اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریرکرکے سوچی کے پاس ان مظالم کوکوبندکرانے کاآخری موقع تھا ۔اگروہ اب بھی حالات کوکنٹرول میں کرنے کی ہمت نہیں رکھتیں تویہ المیہ ایک خوفناک صورت حال اختیاکرلے گا۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پرزوردیاکہ ظلم وتشددکی وجہ سے میانمارچھوڑکربھاگنے پرمجبورہوئے مسلمانوں کودوبارہ میانمارمیں واپس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ میانمارمیں فوج کاغلبہ ہے ۔اس پراس بات کے لیے دبائوبنایاجاناضروری ہے تاکہ وہ جوکچھ مسلمانوں کے ساتھ کررہی ہے ،اس سے بازرہے ۔خیا ل رہے کہ میانمارکی سربراہ مملکت آنک کانگ سوچی کی ا س ظلم وتشددکی وجہ سے معنیٰ خیزخاموشی پرپوری دنیامیں تنقیدیں ہورہی ہیں ۔اس سفاف خاتون کوامن عالم کانام نہادنوبل انعام بھی دیاجاچکاہے اور دنیا بھرسے یہ آوازاٹھ رہی ہے کہ اس سے یہ انعام واپس لیاجائے ۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرکے اس معاملے میں اپناموقف پیش کرنے کے لیے انہیں دعوت دی گئی تھی مگر انہوں نے وہاں آنے سے انکارکردیاتھاچنانچہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے اب انہیں آخری بارمتنبہ کرتے ہوئے کہاکہ آنک کانگ سوچی اقوام متحدہ کے نیویارک اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گی۔دوسری طرف آنک کانگ سوچی نے یہ کہہ کرپلہ جھاڑنے کی کوشش کی ہے کہ روہنگامسلمانوں پرہورہے ظلم وتشددکے سلسلے میں جعلی خبریں اورتصاویرشائع کی جارہی ہیں اس لیے ٹینشن بڑھ رہاہے اوریہ سب دہشت گردی کوفروغ دینے کے لیے کیاجاتاہے ۔واضح رہے کہ مسٹرانٹونیوگوٹرس کایہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب میانمارسے ظلم رسیدہ روہنگیامسلمان ۴۰ہزارسے زیادہ کی تعدادمیں بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔بنگلہ دیشی پولیس کادعوی ہے کہ روہنگیامسلمانوں کوانہیں الاٹ کیے گئے گھروں کے باہرکہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ،حتی کہ ان کے اہل خانہ اوردوستوں